حدیث نمبر: 10675
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ فِي الْحَجِّ، فَنَادَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ، قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَحَلَّ رِجَالٌ فَتَمَتَّعُوا بِالْعُمْرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ هَدْيٌ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَوَقَعُوا عَلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَجَلْ أُفْتِي بِذَلِكَ، بِمَا فُعِلَ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: فَجُدْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَ لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ، ثُمَّ انْتَهَى قَوْلُهُمَا
ترجمہ

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عبداللہ بن زبیر (منبر پر) تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے حج میں متعہ سے منع کر رہے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں پکار کر کہا: ہم اس بات کو زیادہ جانتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا تھا، چنانچہ کچھ لوگوں نے احرام کھول کر عمرے سے تمتع کیا، ان کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، میں اسی بات کا فتویٰ دیتا ہوں، جو متقین کے امام (رسول اللہ ﷺ) کے زمانے میں کیا گیا۔ تو ابن زبیر نے کہا: پھر اپنی جان کا سودا کر لو، اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ پھر ان دونوں کی گفتگو یہیں ختم ہو گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10675
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 298، حدیث 10721