❮
❯
حدیث نمبر: 10642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ أَنْ يَعْبُدُوا اللهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَأَنْ يَحُجُّوا الْبَيْتَ، وَأَنْ يُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّا نَشْرَبُ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْأَسْقِيَةِ الَّتِي تُلَاتُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»
ترجمہ

سعید بن مسیب اور عکرمہ رحمہما اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کے ایک قبیلے سے ہیں، اور ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک صرف حرمت والے مہینے میں ہی پہنچ سکتے ہیں، تو ہمیں کوئی ایسا حکم دیجیے کہ ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں، اور ہم اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی اس کی طرف بلائیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا: انہیں حکم دیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز قائم کریں، زکاۃ ادا کریں، اور یہ کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں، اور مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) ادا کریں۔ اور آپ ﷺ نے انہیں چار چیزوں سے منع فرمایا: حنتم (سبز لاکھی مٹکوں)، دباء (کدو کے خالی خول)، نقیر (کھوکھلی لکڑی کے برتن)، اور مزفت (روغن لگے برتن) میں پینے سے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم کس چیز میں پییں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہی مشکیزوں کا استعمال کرو جن کے منہ باندھ دیے جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10642
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 289، حدیث 10688