المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب عن ابن عباس باب: سعید بن مسیب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10641
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَارَقَ الْمُسْلِمِينَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَمَنْ مَاتَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ مَاتَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ إِلَى عَصَبَةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقَتْلُهُ جَاهِلِيَّةٌ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے بالشت بھر بھی جدا ہو گیا، اس نے اسلام کا طوق اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس پر کوئی امام نہ تھا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے، اور جو شخص اندھی (بےمقصد) جھنڈے تلے عصبیت کی طرف بلاتے ہوئے یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے مرا، تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔“