حدیث نمبر: 1045
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْعَضْبَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ، فَقَالَ لِعُثْمَانَ: «ائْتِنَا بِالْمِفْتَاحِ» فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ، فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَيْتَ، فَمَكَثُوا فِيهِ طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ فَسَبَقْتُهُمْ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا وَرَاءَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ، وَجَعَلَ النَّاسَ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي مُسْتِقْبِلُكَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی عضباء پر اسامہ کو اپنے پیچھے سوار کیے ہوئے تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن طلحہ بھی تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے کعبے کے پاس اونٹنی بٹھائی، تو عثمان سے فرمایا: ”ہمارے پاس چابی لے آؤ“ تو وہ چابی لے آئے، انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دروازہ کھولا، تو رسول اللہ ﷺ، اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ (کعبے میں) داخل ہوئے، پھر انہوں نے اپنے اوپر گھر کا دروازہ بند کر لیا اور کافی دیر اس میں ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے، تو لوگ اندر جانے کے لیے دوڑے، میں ان سے آگے نکل گیا، تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے پیچھے کھڑا پایا، میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے دونوں اگلے ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، لوگوں کو اپنی پشت کے پیچھے رکھا، اور اپنا رخ اس طرف کیا جو تمہارے سامنے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1045
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 347، حدیث 1049