المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يَعْدِلُونَ، قَالَ: «كَيْفَ يَعْدِلُونَ؟» قَالَ: يَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيَقُولُ قَوْلًا، قُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شِئْتَ "
وَقَالَ أَيْضًا: نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ، لَوْلَا أَنَّهُمْ يُشْرِكُونَ، قَالَ: «مَا يَقُولُونَ؟» قَالَ: يَقُولُونَ: بِحَقِّ فُلَانٍ، وَحَيَاةِ فُلَانٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللهِ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ کی امت اچھی امت ہے، اگر یہ لوگ (اللہ کے ساتھ) برابری نہ کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے برابری کرتے ہیں؟“ اس نے کہا: وہ کہتے ہیں: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک بات کہہ رہا ہے، (اس کی اصلاح یہ ہے کہ) تم کہو: جو اللہ چاہے پھر جو تم چاہو۔“
اس نے یہ بھی کہا: آپ کی امت اچھی امت ہے، اگر یہ شرک نہ کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا کہتے ہیں؟“ اس نے کہا: وہ کہتے ہیں: فلاں کے حق کی قسم، اور فلاں کی زندگی کی قسم۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے قسم کھانی ہو وہ صرف اللہ کی قسم کھائے۔“