حدیث نمبر: 10428
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارِ أَبُو أَيُّوبَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الثَّمَانِيَةَ عَشَرَ الَّذِينَ قُتِلُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي الْجَنَّةِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: يَا عِبَادِي، مَاذَا تَشْتَهُونَ؟ قَالُوا: يَا رَبَّنَا، مَا فَوْقَ هَذَا شَيْءٌ، قَالَ: فَيَقُولُ: عِبَادِي، مَاذَا تَشْتَهُونَ؟ فَيَقُولُونَ فِي الرَّابِعَةِ: تَرُدُّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ كَمَا قُتِلْنَا
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے جو اٹھارہ صحابہ شہید ہوئے، اللہ نے ان کی روحیں جنت میں سبز پرندوں میں رکھ دیں جو جنت میں چرتے پھرتے ہیں۔ وہ اسی حال میں تھے کہ ان کا رب ان پر جھانکا اور فرمایا: اے میرے بندو! تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں (جو ہم چاہیں)۔ وہ پھر فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم کیا چاہتے ہو؟ تو وہ چوتھی بار عرض کرتے ہیں: ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم دوبارہ اسی طرح قتل کیے جائیں جیسے پہلے قتل کیے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10428
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 202، حدیث 10466