حدیث نمبر: 10377
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ؛ فَإِنَّهُ وَحْشِيٌّ، وَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهَا "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اسے بھلا دیا گیا ہے۔ قرآن کی حفاظت کرتے رہو، کیونکہ یہ وحشی (بدکنے والا) ہے، اور یہ مردوں کے سینوں سے اس سے بھی زیادہ تیزی سے نکل بھاگتا ہے جتنی تیزی سے اونٹ اپنی رسیوں سے چھوٹ جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10377
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 189، حدیث 10415