حدیث نمبر: 10362
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ بَلْعَنْبَرَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ عَلَيْهِ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلَا يُعْتِقْ مِنْ حِمْيَرَ أَحَدًا» ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ: مَا كَانَ حِمْيَرُ؟ قَالَ: هُوَ أَكْبَرُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنا واجب تھا، اتنے میں بنو عنبر کے کچھ قیدی آئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ انہی میں سے کسی کو آزاد کر دیں، اور فرمایا: ”جس پر اولاد اسماعیل میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم ہو وہ حمیر میں سے کسی کو آزاد نہ کرے۔“
علی بن عابس کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے پوچھا: حمیر کون تھے؟ انہوں نے بتایا: وہ اسماعیل علیہ السلام سے بڑے (پرانے) تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10362
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 184، حدیث 10400