حدیث نمبر: 10347
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَعِنْدَهُ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ: أَلَا تَدْنُو يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِلَى الْغَدَاءِ؟ قَالَ: وَمَا صُمْتُمْ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ كُنَّا نَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ صُمْنَاهُ وَتَرَكْنَا مَا سِوَاهُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ثرید کا پیالہ رکھا تھا کہ اشعث بن قیس ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابومحمد! کھانے کے قریب کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے پوچھا: کیا تم نے آج کا روزہ نہیں رکھا؟ (اشعث نے) کہا: یہ تو وہ دن ہے جسے ہم رمضان کے نازل ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے، جب رمضان نازل ہوا تو ہم نے اسی کا روزہ رکھا اور باقی سب چھوڑ دیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10347
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 180، حدیث 10385