المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَخْلَفُوا عَلَيْهِمْ خَلِيفَةً، فَقَامَ يُصَلِّي فِي الْقَمَرِ فَوْقَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَذَكَرَ أُمُورًا صَنَعَهَا، فَتَدَلَّى بِسَبَبٍ، فَأَصْبَحَ السَّبَبُ مُتَعَلِّقًا بِالْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قَوْمًا عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، فَوَجَدَهُمْ يَصْنَعُونَ لَبَنًا، فَسَأَلَهُمْ: كَيْفَ تَأْخُذُونَ عَلَى هَذَا اللَّبَنِ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَلَبَنَ مَعَهُمْ، فَكَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ حَتَّى إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ تَطَهَّرَ فَصَلَّى، فَرَفَعَ ذَلِكَ الْعَامِلُ إِلَى دِهْقَانِهِمْ، فَقَالَ: فِينَا رَجُلٌ يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ يَسِيرُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا رَآهُ فَرَّ، فَتَبِعَهُ فَسَبَقَهُ، فَقَالَ: أَنْظِرْنِي أُكَلِّمْكَ كَلِمَةً، فَقَامَ حَتَّى كَلَّمَهُ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا، وَأَنَّهُ فَرَّ مِنْ رَهْبَةِ ذَنْبِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَاحِقٌ بِذَلِكَ مَعَكَ، فَعَبَدَا اللهَ، فَسَأَلَا اللهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا، فَمَاتَا ". قَالَ عَبْدُ اللهِ: «فَلَوَ كُنْتُ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمْ يَصِفُهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل نے اپنے اوپر ایک خلیفہ مقرر کیا، وہ (ایک رات) چاندنی میں بیت المقدس کے اوپر کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، اسے اپنے کیے ہوئے کچھ کام یاد آئے، تو وہ ایک رسی کے ذریعے نیچے اتر گیا، صبح ہوئی تو رسی مسجد سے لٹک رہی تھی اور وہ جا چکا تھا۔ وہ چلتا رہا یہاں تک کہ سمندر کے کنارے کچھ لوگوں کے پاس پہنچا، اس نے دیکھا کہ وہ کچی اینٹیں بنا رہے ہیں، اس نے ان سے پوچھا: تم ان اینٹوں پر (اجرت) کیسے لیتے ہو؟ انہوں نے اسے بتا دیا، تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگا، وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا تھا، اور جب نماز کا وقت آتا تو پاکیزگی حاصل کر کے نماز پڑھتا۔ اس مزدور نے یہ بات ان کے دہقان (سردار) تک پہنچائی اور کہا: ہمارے درمیان ایک آدمی ہے جو ایسا ایسا کرتا ہے۔ اس (دہقان) نے اسے بلا بھیجا تو اس نے اس کے پاس آنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ (دہقان) اپنی سواری پر چلتا ہوا آیا، جب اس نے اسے دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا، اس نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے آگے نکل گیا، اور کہا: مجھے مہلت دو کہ میں تم سے ایک بات کر لوں۔ چنانچہ وہ کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ اس نے اس سے بات کی، اور اس نے اسے بتایا کہ وہ ایک بادشاہ تھا، اور اپنے گناہ کے خوف سے (سب کچھ چھوڑ کر) بھاگ آیا تھا۔ اس نے کہا: میں بھی اس معاملے میں تیرے ساتھ ہوں۔ چنانچہ دونوں نے اللہ کی عبادت کی، اور اللہ سے دعا کی کہ وہ دونوں کو اکٹھا موت دے، تو وہ دونوں فوت ہو گئے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں مصر کے رمیلہ میں ہوتا تو تمہیں ان کی قبریں دکھا دیتا“، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی صفت بیان فرمائی تھی۔