حدیث نمبر: 10311
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ الْقَوْمُ: عَرِّسْ بِنَا، فَقَالَ: «مَنْ يُوقِظُنَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا أَحْرُسُكُمْ وَأُوقِظُكُمْ، فَنِمْتُ وَنَامُوا، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ فِي رُءُوسِنَا، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَنَا، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَالْقَوْمُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں نے کہا: ہمیں پڑاؤ کرا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں کون جگائے گا؟“ میں نے عرض کیا: میں پہرہ دوں گا اور آپ سب کو جگا دوں گا۔ چنانچہ میں سو گیا اور سب بھی سو گئے، ہم اس وقت تک بیدار نہ ہوئے جب تک سورج کی گرمی ہمارے سروں پر نہ پڑی۔ رسول اللہ ﷺ ہم سب کے بعد بیدار ہوئے، آپ ﷺ اور لوگ کھڑے ہو کر وضو کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر نماز فجر پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10311
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 168، حدیث 10349