حدیث نمبر: 10274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنَاذِرٍ الشَّاعِرُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقَتْلَى يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " لَوْ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ حَيٌّ لَعَلِمَ أَنَّ أَسْيَافَنَا قَدْ أَخَذَتْ بِالْمَآثِلِ، وَلِذَلِكَ يَقُولُ أَبُو طَالِبٍ:
[البحر الطويل]
كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللهِ إِنْ جَدَّ مَا أَرَى ... لَتَلْتَبِسَنْ أَسْيَافُنَا بِالْمَآثِلِ
وَيَنْهَضُ قَوْمٌ فِي الدُّرُوعِ إِلَيْكُمُ ... نُهُوضَ الرَّوَايَا فِي طَرِيقٍ حَلَاحِلِ
". قَالَ ابْنُ مَنَاذِرٍ: وَهُمَا سَوَاءٌ، يَقُولُونَ: حَلَاحِلِ وَجَلَاجِلِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن مقتولین کو دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو جان لیتے کہ ہماری تلواریں (دشمن کے) کندھوں تک جا پہنچی ہیں، اور یہی وہ بات ہے جو ابوطالب نے کہی تھی: (بحر طویل)
اللہ کے گھر کی قسم! تم جھوٹ کہتے ہو، اگر جو میں دیکھ رہا ہوں سچ ثابت ہوا تو ہماری تلواریں ضرور کندھوں سے ٹکرائیں گی
اور زرہیں پہنے ایک قوم تمہاری طرف اس طرح اٹھے گی جیسے پانی لے جانے والے اونٹ کسی کشادہ راستے میں اٹھتے ہیں۔“
ابن مناذر کہتے ہیں: دونوں الفاظ ایک ہی معنی رکھتے ہیں، لوگ ”حلاحل“ اور ”جلاجل“ دونوں کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10274
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 158، حدیث 10312