المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10262
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صَبَرٌ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَكَ وَلِضِيفَانِكَ، قَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ يَكُونَ لَهَا بُخَارٌ مِنْ نَارٍ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر تھا، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے اے بلال؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے اور آپ کے مہمانوں کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ خدشہ نہیں کہ اس کا دھواں آگ کا دھواں ہو؟ اے بلال! خرچ کرو، اور عرش والے کی طرف سے کمی کا خوف نہ کرو۔“