حدیث نمبر: 10262
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صَبَرٌ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَكَ وَلِضِيفَانِكَ، قَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ يَكُونَ لَهَا بُخَارٌ مِنْ نَارٍ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر تھا، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے اے بلال؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے اور آپ کے مہمانوں کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ خدشہ نہیں کہ اس کا دھواں جہنم کی آگ کا دھواں بن جائے؟ اے بلال! خرچ کرو، اور عرش والے کی طرف سے کمی کا خوف نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10262
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 155، حدیث 10300