حدیث نمبر: 10232
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَعَلِيُّ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالُوا: ثنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا سَمِعْنَا مُنَاشِدًا أَنْشَدَ حَقًّا لَهُ أَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، جَعَلَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكُ مَا وَعَدْتَنِي، اللهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ كَأَنَّ وَجْهَهُ الْقَمَرُ فَقَالَ: «كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ عَشِيَّةً» .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے کبھی کسی کو اپنے حق کے لیے اتنی شدت سے فریاد کرتے نہیں سنا جتنی شدت سے محمد ﷺ نے بدر کے دن فریاد کی، آپ فرماتے جا رہے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے وہ وعدہ مانگتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے، اے اللہ! اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی“، پھر آپ نے دشمن کی طرف متوجہ ہو کر، گویا آپ کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا، فرمایا: ”گویا میں آج شام دشمنوں کی گرنے کی جگہیں دیکھ رہا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10232
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 147، حدیث 10270