حدیث نمبر: 10230
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي الْأَفْطَسَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا إِذَا عَمِلَ الْعَامِلُ مِنْهُمْ بِالْخَطِيئَةِ نَهَاهُ النَّاهِي تعذيرًا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ جَالَسَهُ وَوَاكَلَهُ وَشَارَبَهُ، كَأَنَّهُ لَمْ يَرَهُ عَلَى خَطِيئَةٍ بِالْأَمْسِ، فَلَمَّا رَأَى اللهُ ذَلِكَ مِنْهُمْ ضَرَبَ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، ثُمَّ لَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ، وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا، أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللهُ قُلُوبَ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ، ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ» . قَالَ خَلَفٌ: تأْطُرُونَهُ: تَقْهَرُونَهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں سے کوئی گناہ کرتا تو روکنے والا اسے صرف زبانی طور پر روک دیتا، پھر اگلے دن اس کے ساتھ بیٹھتا، کھاتا اور پیتا، گویا اس نے اسے کل کسی گناہ پر دیکھا ہی نہیں تھا، تو جب اللہ نے ان سے یہ حالت دیکھی تو ان کے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دیا، پھر انہیں اپنے نبی داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی لعنت کی، یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھتے رہے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، تمہیں ضرور نیکی کا حکم دینا ہوگا، برائی سے روکنا ہوگا، ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا اور اسے حق کی طرف مضبوطی سے موڑنا ہوگا، ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو بھی ایک دوسرے پر مار دے گا، پھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جیسے ان پر کی۔“
خلف کہتے ہیں: ”تأطرونہ“ کا مطلب ہے ”تقھرونہ“ (اسے دبا دینا، مغلوب کرنا)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10230
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 146، حدیث 10268