❮
❯
حدیث نمبر: 10173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا وَهْبُ اللهِ بْنُ رِزْقٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ: لَمَّا أَنْكَرَ النَّاسُ سِيرَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَزِعَ النَّاسُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: اصْبِرُوا؛ فَإِنَّ جَوْرَ إِمَامٍ خَمْسِينَ عَامًا خَيْرٌ مِنْ هَرْجِ شَهْرٍ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَارَةٍ بَرَّةٍ أَوْ فَاجِرَةٍ، فَأَمَّا الْبَرَّةُ فَتَعْدِلُ فِي الْقَسْمِ، وَيُقْسَمُ بَيْنَكُمْ فَيْؤُكُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَأَمَّا الْفَاجِرَةُ فَيُبْتَلَى فِيهَا الْمُؤْمِنُ، وَالْإِمَارَةُ الْفَاجِرَةُ خَيْرٌ مِنَ الْهَرْجِ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: «الْقَتْلُ وَالْكَذِبُ»
ترجمہ

زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب لوگوں نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے طرزِ حکمرانی کو ناپسند کیا تو لوگ گھبرا کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: صبر کرو؛ کیونکہ پچاس سال کسی حکمران کے ظلم کو برداشت کرنا ایک مہینے کی افراتفری سے بہتر ہے، اور یہ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”لوگوں کے لیے کسی نہ کسی حکومت کا ہونا ضروری ہے، خواہ نیک ہو یا فاجر، رہی نیک حکومت تو وہ تقسیم میں انصاف کرتی ہے اور تمہارا مالِ فَے تمہارے درمیان برابری سے تقسیم کرتی ہے، اور رہی فاجر حکومت تو اس میں مومن آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے، اور فاجر حکومت افراتفری سے بہتر ہے“، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! افراتفری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قتل اور جھوٹ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10173
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 132، حدیث 10210