المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن بلال باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ دُونٌ، فَابْتَعْتُ بِهِ مِنَ السُّوقِ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا رَأَيْتُ الْيَوْمَ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْ هَذَا، مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ، قَالَ: «انْطَلِقْ فَرُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ وَخُذْ تَمْرَكَ، فَبِعْهُ بِحِنْطَةٍ، أَوْ شَعِيرٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ هَذَا التَّمْرَ، ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ» قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا»سعید بن مسیب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس گھٹیا کھجور تھی، تو میں نے اس کے بدلے بازار سے اس سے بہتر کھجور اس کی آدھی مقدار میں خرید لی، پھر میں وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے آج اس سے بہتر کھجور نہیں دیکھی، یہ تمہیں کہاں سے ملی اے بلال؟“ میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے کیا کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، یہ اس کے مالک کو واپس کر دو اور اپنی (پہلی) کھجور لے لو، پھر اسے گندم یا جَو کے بدلے بیچو، پھر اس سے یہ کھجور خریدو، پھر میرے پاس لے آؤ“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر، گندم گندم کے بدلے برابر برابر، جَو جَو کے بدلے برابر برابر، نمک نمک کے بدلے برابر برابر، سونا سونے کے بدلے برابر برابر وزن میں، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن میں، اور جو کچھ زیادہ ہو وہ سود ہے۔“