المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف عن الأعمش في حديث عبد الله بن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بقتل حية بمنى " باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف کہ نبی کریم ﷺ نے منیٰ میں ایک سانپ کے مارنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 10121
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوهَا» ، فَدَخَلَتْ فِي شَقِّ جُحْرٍ، فَأَتَى بِسَعَفَةٍ فَأَضْرَمَ فِيهَا نَارًا، ثُمَّ فَرَّغْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهَا؛ فَقَدْ وَقَاهَا اللهُ شَرَّكُمْ، وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم عرفہ کی رات مسجدِ خیف میں تھے کہ ہم نے سانپ کی سرسراہٹ سنی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، وہ ایک بل کی دراڑ میں گھس گیا، تو ایک شخص کھجور کی ٹہنی لے آیا اور اس میں آگ لگا دی، پھر ہم نے بل کا کچھ حصہ خالی کیا مگر ہمیں وہ نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو؛ اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا، اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔“