حدیث نمبر: 10118
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ، فَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، فَمَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا يُخْتَمُ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: ٥٠] أَوْ {إِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: ٤٨] ، قَالَ: وَأَفْلَتَتْهُ حَيَّةٌ فِي جُحْرٍ فَقَالَ: «وُقِيتُمْ شَرَّهَا، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … مجھے یاد نہیں کہ ان دونوں میں سے کس پر تلاوت ختم کی گئی تھی: ”پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے“ [سورۃ المرسلات: 50] یا ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو رکوع نہیں کرتے“ [سورۃ المرسلات: 48]، راوی کہتے ہیں: اور اسی دوران ایک سانپ ایک بل میں گھس کر بچ نکلا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس کے شر سے بچا لیا گیا، اور اسے تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10118
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 118، حدیث 10154