المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے
حدیث نمبر: 10009
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عُرْفُطَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَضَى خَمْسُ آيَاتٍ، وَبَقِيَ خَمْسٌ مِنْهَا: انْشِقَاقُ الْقَمَرِ وَقَدْ رَأَيْنَاهُ، وَمَضَى الدُّخَانُ، وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ الْكُبْرَى، وَمَضَى الْيَوْمُ الْعَقِيمُ، وَمَضَى اللِّزَامُ "ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پانچ نشانیاں گزر چکی ہیں اور ان میں سے پانچ باقی رہ گئی ہیں: چاند کا پھٹنا، اور ہم اسے دیکھ چکے ہیں، اور دخان (دھواں) گزر چکا، اور بطشہ کبریٰ (بڑی گرفت) گزر چکی، اور یوم عقیم (بانجھ دن) گزر چکا، اور لزام (لازمی عذاب) بھی گزر چکا۔“