مشكوة المصابيح
كتاب الآداب— كتاب الآداب
(أُسْلُوبُ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ) باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیٹی سے محبت کا انداز
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدعائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیٔت، سیرت و صورت، ایک روایت میں ہے: بات چیت میں فاطمہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو مشابہ نہیں پایا، جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا استقبال کرتے، آپ ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کا (پیشانی پر) بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ کا استقبال کرتیں، آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔