مشكوة المصابيح
كتاب الإمارة والقضاء— كتاب الإمارة والقضاء
(بَيَانُ الحَبْسِ بِالتُّهْمَةِ) باب: تہمت کی بنا پر قید کرنے کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ ونِعْمَ الوكيلُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدعوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا تو آپ نے جس شخص کے خلاف فیصلہ فرمایا جب وہ واپس جانے لگا تو اس نے کہا: ’’میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ ‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ عجز و نادانی پر ملامت فرماتا ہے، بلکہ تمہیں احتیاط کرنی چاہیے، جب کوشش کے باوجود کوئی خلاف توقع واقعہ غالب آ جائے تو تم کہو: ’’میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔