مشكوة المصابيح
كتاب المناسك— كتاب المناسك
(الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ لَا تَطُوفُ) باب: حائضہ عورت طواف نہیں کرے گی
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف حج کے ارادے سے روانہ ہوئے، جب آپ مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں پر مقدر کر دیا ہے، تم جب تک حیض سے پاک نہیں ہو جاتیں، بیت اللہ کے طواف کے سوا دیگر حاجیوں کی طرح امور بجا لاتی رہو۔ ‘‘ متفق علیہ۔