مشكوة المصابيح
كتاب الصوم— كتاب الصوم
(لِمَاذَا يُصَامُ يَوْمُ عَاشُورَاءَ) باب: عاشوراء کے دن کا روزہ کیوں رکھا جائے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةِ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ: أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ» فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بصيامهابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ان سے دریافت کیا: ’’یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، یہ ایک عظیم دن ہے، اللہ نے اس روز موسی ٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات دی جبکہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو موسی ٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی اس روز کا روزہ رکھتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم تمہاری نسبت موسی ٰ ؑ کے زیادہ حق دار ہیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روز کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ متفق علیہ۔