کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، قَالَ : إِنَّ عَامِرَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ ، وَجَرَحَ نَفْسَهُ . قَالَ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَهُ أَجْرَانِ .
ترجمہ
سیدنا مجزأہ بن ظاہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ نے (میدانِ جنگ میں) ایک دشمن سپاہی کا تندہی سے مقابلہ کیا اور اسے واصلِ جہنم کر دیا، تاہم اس دوران (اپنی ہی تلوار مڑ کر لگنے کی وجہ سے) وہ خود بھی زخمی ہو گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے سامنے اس واقعے کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے دہرا اجر ہے۔“
تخریج: یہ روایت صحیح بخاری (4196) اور صحیح مسلم (1802) میں مفصل قصے کے ساتھ موجود ہے، جس میں صراحت ہے کہ عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنی ہی تلوار سے حادثاتی طور پر زخمی ہو کر جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، جس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دوہرے اجر کی خوشخبری سنائی۔
تخریج: یہ روایت صحیح بخاری (4196) اور صحیح مسلم (1802) میں مفصل قصے کے ساتھ موجود ہے، جس میں صراحت ہے کہ عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنی ہی تلوار سے حادثاتی طور پر زخمی ہو کر جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، جس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دوہرے اجر کی خوشخبری سنائی۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، ثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : إِنَّ عَمَّهُ جُرِحَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَقَتَلَ رَجُلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكَ أَجْرَانِ .
ترجمہ
ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا (عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ) غزوہ خیبر کے دن زخمی ہوئے اور انہوں نے ایک (دشمن) شخص کو قتل کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے (ان کی قدر افزائی کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے دوہرا اجر و ثواب ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہیں، جہاں عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شہادت کا مفصل تذکرہ ملتا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہیں، جہاں عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شہادت کا مفصل تذکرہ ملتا ہے۔