قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ ، إِنْ شَاوَرْتَهُ نَفَعَكَ ، وَإِنْ مَاشَيْتَهُ نَفَعَكَ ، وَإِنْ شَارَكْتَهُ نَفَعَكَ .
2915 \ 2 - حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، نَحْوَهُ .
2915 \ 2 - حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے؛ اگر تم اس سے مشورہ طلب کرو تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا، اگر تم اس کے ساتھ رفاقت اختیار کرو تو وہ تمہیں فائدہ پہنچائے گا اور اگر تم اس کے ساتھ (کسی معاملے میں) شراکت داری کرو تو بھی وہ تمہیں نفع ہی پہنچائے گا۔“
امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو محمد بن اسماعیل بن ابی سمینہ، عبدالرحمن المحاربی، لیث اور مجاہد کے سلسلۂ سند سے روایت کیا ہے، نیز سوید بن سعید نے فضیل بن عیاض کے واسطے سے لیث سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو محمد بن اسماعیل بن ابی سمینہ، عبدالرحمن المحاربی، لیث اور مجاہد کے سلسلۂ سند سے روایت کیا ہے، نیز سوید بن سعید نے فضیل بن عیاض کے واسطے سے لیث سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ ، كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ .
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ ایمان کے مابین ایک مومن کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسی پورے جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے، ایک مومن دوسرے اہل ایمان کی تکلیف پر اسی طرح تڑپتا اور درد محسوس کرتا ہے جیسے سر میں ہونے والی کسی بھی تکلیف کی وجہ سے پورا جسم دکھ اور درد محسوس کرتا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں مصعب بن ثابت اگرچہ محلِ نظر ہیں لیکن اس کا مضمون دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہونے کی بنا پر مستند ہے۔
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں مصعب بن ثابت اگرچہ محلِ نظر ہیں لیکن اس کا مضمون دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہونے کی بنا پر مستند ہے۔