کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سمندری شکار کو ذبح کیے بغیر کھانے کے حلال ہونے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا شُرَيْحًا قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ فِي الْبَحْرِ مَذْبُوحٌ . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَطَاءٍ فَقَالَ : أَمَّا الطَّيْرُ فَأَرَى أَنْ تَذْبَحَهُ .
ترجمہ
عمرو بن دینار اور ابوزبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر وہ چیز جو سمندر میں (پائی جائے)، وہ ذبح شدہ (یعنی حلال) ہے“۔ راوی (ابن جریج) کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات (جو شریح نے فرمائی تھی) امام عطاء رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: ”جہاں تک سمندری پرندوں کا تعلق ہے، تو میری رائے ہے کہ انہیں ذبح کیا جائے“۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كُلُّ دَابَّةٍ فِي الْبَحْرِ قَدْ ذَبَحَهَا اللهُ تَعَالَى لَكُمْ فَكُلُوهَا " .
ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سمندر کی ہر جاندار چیز کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ذبح کر دیا ہے (یعنی حلال کر دیا ہے)، پس تم اسے کھاؤ۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُلُّ دَابَّةٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ وَالْبَرِّ لَيْسَ لَهُ دَمٌ يَنْفَصِلُ [فَلَيْسَ] لَهُ ذَكَاةٌ .
ترجمہ
ابویعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”خشکی اور سمندر کے جانداروں میں سے ہر وہ جاندار جس میں بہتا ہوا خون نہ ہو تو اس کی ذکاۃ (شرعی ذبح) نہیں ہے (یعنی اسے حلال کرنے کے لیے ذبح یا خون بہانا ضروری نہیں)۔“