کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مال پر سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہ ہونے کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - أَنَّهُ أَعْطَى جَابِرًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عِدَّةً كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَأَزِيدُكَ أَنَّهُ لَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ .
إِسْمَاعِيلُ هُوَ الْمَكِّيُّ ، فِيهِ ضَعْفٌ ، وَالْعِدَّةُ مَذْكُورَةٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
إِسْمَاعِيلُ هُوَ الْمَكِّيُّ ، فِيهِ ضَعْفٌ ، وَالْعِدَّةُ مَذْكُورَةٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو وہ عطیہ (مال کی صورت میں) ادا کیا جس کا وعدہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرما رکھا تھا، نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد بھی فرمایا: ”میں تمہیں یہ اضافی بات بتاتا ہوں کہ اس مال پر اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی جب تک کہ اس پر پورا ایک سال نہ گزر جائے“۔
(اس روایت کے راوی) اسماعیل بن مسلم مکی ہیں جو حفظ کے اعتبار سے کمزور مانے جاتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے اس وعدے کا تذکرہ صحیح احادیث میں موجود ہے لیکن اس کا سیاق و سباق اس روایت سے مختلف ہے۔
(اس روایت کے راوی) اسماعیل بن مسلم مکی ہیں جو حفظ کے اعتبار سے کمزور مانے جاتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے اس وعدے کا تذکرہ صحیح احادیث میں موجود ہے لیکن اس کا سیاق و سباق اس روایت سے مختلف ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ هُوَ أَخُوهُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَانَ إِذَا أَعْطَى الرَّجُلَ عَطَاءً قَالَ : هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَدِّ زَكَاتَهُ ، فَإِذْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قَالَ : لَا تُزَكِّهِ ، يَعْنِي مَالَ الْعَطَاءِ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ .
قُلْتُ : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
قُلْتُ : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
ترجمہ
سیدنا قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب کسی شخص کو سرکاری وظیفہ یا عطیہ دیتے تو اس سے دریافت فرماتے: ”کیا تمہارے پاس پہلے سے مال موجود ہے؟“ اگر وہ شخص کہتا: ”جی ہاں“، تو آپ فرماتے: ”(پھر) اس کی زکوٰۃ ادا کر دو“، لیکن اگر اس کے پاس پہلے سے مال نہ ہوتا تو آپ فرماتے کہ اس عطیہ کے مال پر اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی جب تک کہ اس پر ایک سال کا عرصہ نہ گزر جائے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند صحیح ہے، مگر یہ امام قاسم اور ان کے دادا سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے مابین منقطع ہے (یعنی ان کا باہمی سماع ثابت نہیں ہے)۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند صحیح ہے، مگر یہ امام قاسم اور ان کے دادا سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے مابین منقطع ہے (یعنی ان کا باہمی سماع ثابت نہیں ہے)۔