المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ باب: مال پر سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 895
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ هُوَ أَخُوهُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَانَ إِذَا أَعْطَى الرَّجُلَ عَطَاءً قَالَ : هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَدِّ زَكَاتَهُ ، فَإِذْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قَالَ : لَا تُزَكِّهِ ، يَعْنِي مَالَ الْعَطَاءِ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ .
قُلْتُ : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .ترجمہ
سیدنا قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب کسی شخص کو سرکاری وظیفہ یا عطیہ دیتے تو اس سے دریافت فرماتے: ”کیا تمہارے پاس پہلے سے مال موجود ہے؟“ اگر وہ شخص کہتا: ”جی ہاں“، تو آپ فرماتے: ”(پھر) اس کی زکوٰۃ ادا کر دو“، لیکن اگر اس کے پاس پہلے سے مال نہ ہوتا تو آپ فرماتے کہ اس عطیہ کے مال پر اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی جب تک کہ اس پر ایک سال کا عرصہ نہ گزر جائے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند صحیح ہے، مگر یہ امام قاسم اور ان کے دادا سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے مابین منقطع ہے (یعنی ان کا باہمی سماع ثابت نہیں ہے)۔