❮
❯
حدیث نمبر: 990
الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : السُّنَّةُ لَيْلَةً يُنْظَرُ إِلَى هِلَالِ رَمَضَانَ لِلصِّيَامِ أَوْ لِلْفِطْرِ : يُؤَذَّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ تُؤَخَّرُ الْإِقَامَةُ ، حَتَّى يُرَى الْهِلَالُ ، أَوْ يُوأَسَ مِنْهُ ، وَيَبْدُوَ بَعْضُ النُّجُومِ .
ترجمہ

سیدنا ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رمضان کے روزوں یا عید الفطر کے لیے چاند دیکھے جانے والی رات کی سنت یہ ہے کہ مغرب کی اذان تو اپنے مقررہ وقت پر دی جائے، لیکن پھر نماز کی اقامت میں تب تک تاخیر کی جائے جب تک کہ چاند نظر آ جائے یا اس کے نظر آنے سے مایوسی ہو جائے اور آسمان پر کچھ ستارے نمودار ہونے لگیں۔“
یہ روایت روزوں کے آغاز یا عید الفطر کے لیے ہلال کی رویت اور اس کی نگرانی کے مسنون طریقے کی وضاحت کرتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 990
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات، لكنه من مراسيل الزهري، ومراسيله ضعيفة (انظر: سير أعلام النبلاء (5/ 338). »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»