❮
❯
حدیث نمبر: 988
الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ خَطَبَ النَّاسَ بِالْمَوْسِمِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّا قَدْ شَهِدْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْنَا عَنْهُمْ ، وَحَدَّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صُومُوا لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ، وَإِنْ شَهِدَ ذَوَا عَدْلٍ فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِمَا ، وَأَفْطِرُوا لَهَا ، وَأَمْسِكُوا لَهَا .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے حج کے ایام میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! ہم نے محمد ﷺ کے صحابہ کا دور دیکھا ہے، ان سے براہِ راست علم حاصل کیا ہے اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، پھر اگر (بادلوں کی وجہ سے) مطلع تم پر صاف نہ ہو اور چاند پوشیدہ رہے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو، اور اگر دو عادل گواہ (چاند دیکھنے کی) گواہی دے دیں تو ان کی رویت کی بنیاد پر روزہ رکھو، اسی کی بنیاد پر افطار کرو اور اسی کے مطابق (روزے کے احکام پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے سے) رک جاؤ۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدا
قال حسین سلیم اسد الدراني: وفيه داود متروك، والحجاج صدوق كثير الخطأ والتدليس وقد عنعن »
«أخرجه سنن النسائي برقم: 2115 / 5، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 2437، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2169، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19127، وأخرجه مسند البزار برقم: 2856، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7337، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 9113، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 2546، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3770»