المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّوْمِ لِلرُّؤْيَةِ باب: چاند دیکھنے (رویتِ ہلال) کی بنیاد پر روزہ رکھنے کا بیان۔
الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ خَطَبَ النَّاسَ بِالْمَوْسِمِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّا قَدْ شَهِدْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْنَا عَنْهُمْ ، وَحَدَّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صُومُوا لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ، وَإِنْ شَهِدَ ذَوَا عَدْلٍ فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِمَا ، وَأَفْطِرُوا لَهَا ، وَأَمْسِكُوا لَهَا .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے حج کے ایام میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! ہم نے محمد ﷺ کے صحابہ کا دور دیکھا ہے، ان سے براہِ راست علم حاصل کیا ہے اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، پھر اگر (بادلوں کی وجہ سے) مطلع تم پر صاف نہ ہو اور چاند پوشیدہ رہے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو، اور اگر دو عادل گواہ (چاند دیکھنے کی) گواہی دے دیں تو ان کی رویت کی بنیاد پر روزہ رکھو، اسی کی بنیاد پر افطار کرو اور اسی کے مطابق (روزے کے احکام پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے سے) رک جاؤ۔“