❮
❯
حدیث نمبر: 986
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ مَعَ صَاحِبٍ لِي إِلَى سَلْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَمِلْحٍ ، فَقَالَ صَاحِبِي : لَوْ كَانَ فِي مِلْحِنَا سَعْتَرٌ ، فَبَعَثَ سَلْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِمِطْهَرَتِهِ ، فَجَاءَ بِسَعْتَرٍ ، فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبِي : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا . فَقَالَ سَلْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَوْ قَنِعْتَ لَمْ تَكُنْ مِطْهَرَتِي مَرْهُونَةً .
ترجمہ

ابووائل سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے گیا، تو وہ (ضیافت کے لیے) روٹی اور نمک لے آئے، اس پر میرے ساتھی نے کہا: ”کاش کہ ہمارے اس نمک کے ساتھ کچھ زعتر (ایک خوشبودار بوٹی) بھی ہوتی“، (یہ سن کر) سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مطہرہ (وضو کا برتن) گروی رکھ کر زعتر منگوایا، پھر جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے ساتھی نے یہ کلمات کہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس پر قناعت عطا فرمائی جو اس نے ہمیں رزق دیا“، یہ سن کر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے (حقیقتِ حال واضح کرتے ہوئے) فرمایا: ”اگر تم واقعی میسر رزق پر قناعت کرنے والے ہوتے تو میرا وضو کا برتن (بازار میں) گروی نہ رکھا جاتا۔“
اس اثر سے یہ سبق ملتا ہے کہ مہمان کو دسترخوان پر موجود نعمتوں پر ہی خوش رہنا چاہیے اور ایسی فرمائش سے گریز کرنا چاہیے جو میزبان کے لیے بوجھ یا قرض کا سبب بنے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 986
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7239، وأخرجه مسند أحمد برقم: 24230، وأخرجه مسند البزار برقم: 2514، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6083، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5935»