المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الْبُخْلِ باب: بخل کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 984
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي ، فَمُرْهُ فَلْيَبِعْهَا ، أَوْ لِيَهَبْهَا لِي . قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : افْعَلْ ، لَكَ بِهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَأَبَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَذَا أَبْخَلُ النَّاسِ .ترجمہ
سیدہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں شخص کا ایک کھجور کا درخت میرے باغ کی حدود میں ہے، آپ اسے حکم فرمائیں کہ وہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دے یا مجھے ہبہ کر دے، چنانچہ وہ صاحب نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا کر دو، تمہیں اس کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک درخت ملے گا“، مگر انہوں نے انکار کر دیا، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ شخص لوگوں میں سب سے بڑا بخیل ہے“۔