المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمَعْرُوفِ وَإِعَانَةِ الْمَلْهُوفِ وَإِغَاثَتِهِ باب: نیکی کی ترغیب اور مصیبت زدہ کی مدد کا بیان۔
حدیث نمبر: 976
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَجُلٌ يُعْطِي مَالَهُ وَنَفْسَهُ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نِعْمَ الرَّجُلُ هَذَا ، وَلَيْسَ بِهِ ، وَلَكِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ رَجُلٌ يُعْطِي جُهْدَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ شخص جو (راہِ خدا میں) اپنا مال اور اپنی جان کھپا دے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ شخص کتنا ہی خوب ہے! لیکن وہ (مطلوبہ افضل ترین) یہ نہیں ہے، بلکہ لوگوں میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو اپنی تمام تر وسعت اور پوری محنت صرف کر دے۔“