المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِحْبَابِ عَدَمِ الِاسْتِعَانَةِ فِي الطُّهُورِ باب: طہارت میں دوسروں سے مدد نہ لینے کے استحباب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، ثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ ، ثَنَا أَبُو الْجَنُوبِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ ، فَقَالَ : مَهْ يَا أَبَا الْجَنُوبِ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ : مَهْ يَا أَبَا الْحَسَنِ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ فَبَادَرْتُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ : " مَهْ يَا عُمَرُ ; فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَشْرَكَنِي فِي طُهُورِي أَحَدٌ " .ابوالجنوب سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے وضو کے لیے پانی بھر کر لا رہے تھے، چنانچہ میں ان کی خدمت میں پانی لانے کی غرض سے ان کی طرف لپکا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوالجنوب! رک جاؤ؛ کیونکہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ وہ اپنے وضو کے لیے پانی بھر رہے تھے، تو میں ان کے لیے پانی بھرنے کی خاطر تیزی سے آگے بڑھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! ٹھہر جائیے؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے وضو کے لیے پانی بھر رہے تھے، تو میں نے آپ ﷺ کے لیے پانی بھرنے میں پہل کرنی چاہی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! ٹھہر جاؤ؛ کیونکہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میری طہارت کے عمل میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک ہو۔“““
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں ابوالجنوب عقبہ بن علقمہ یشکری نامی راوی موجود ہے جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔