المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنَ السُّؤَالِ وَفَضْلِ الْإِعْطَاءِ باب: مانگنے سے ڈرانے اور دینے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 941
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ : ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ لِبَنَاتِهَا : تَصَدَّقْنَ وَلَا تَنْتَظِرْنَ الْفَضْلَ ، فَإِنَّكُنَّ إِنِ انْتَظَرْتُنَّ الْفَضْلَ لَمْ تَجِدْنَ ، وَإِنْ تَصَدَّقْتُنَّ لَمْ تَجِدْنَ فَقْدَهُ .ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی صاحبزادیوں کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرتی رہا کرو اور (مال کی) فراوانی یا ضرورت سے زائد بچت کا انتظار نہ کرو، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تم نے فالتو مال بچنے کا انتظار کیا تو اسے کبھی حاصل نہ کر سکو گی، اور اگر تم نے صدقہ کر دیا تو تمہیں اس خرچ شدہ مال کی ذرہ برابر کمی یا اس کے کھو جانے کا احساس نہ ہوگا۔“