المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنَ السُّؤَالِ وَفَضْلِ الْإِعْطَاءِ باب: مانگنے سے ڈرانے اور دینے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 940
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ جُنَادَةَ ، وَقَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَقْضَمُ الْجَمْرَ .ترجمہ
سیدنا ابنِ جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کی سعادت حاصل کی تھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے فقر و فاقہ اور احتیاج کے بغیر (لوگوں سے) سوال کیا، تو وہ گویا آگ کے دہکتے ہوئے انگارے چبا رہا ہے۔“
ائمہ و شارحینِ حدیث کے نزدیک اس فرمانِ نبوی میں بلا ضرورت دستِ سوال دراز کرنے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ناحق مانگ کر جمع کیا جانے والا مال درحقیقت جہنم کی آگ ہے جو مانگنے والے کے لیے وبالِ جان بنے گی۔