❮
❯
حدیث نمبر: 936
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَنَسَخْتُهُ مِنْ كِتَابِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُذَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَدِيٌّ ، كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لَهُ حِوَارٌ ، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا ، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِتَبُوكَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَأْنِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ ، فَقَالَ : أَدِّ لِوَارِثِهَا عَقْلَهَا . قَالَ عَدِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءَ جَدْعَاءَ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، تَعْلَمُنَّ أَنَّ الْأَيْدِيَ ثَلَاثَةٌ ، يَدُ اللهِ تَعَالَى هِيَ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى ، وَيَدُ الْمُعْطَى هِيَ السُّفْلَى ، فَتَعَفَّفُوا ، وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ . ؟
ترجمہ

بنو جذام کے ایک صحابی حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی اپنی دو بیویوں کے ساتھ کچھ تکرار ہو گئی، اسی دوران انہوں نے غصے میں ان میں سے ایک کو پتھر دے مارا جس سے وہ جاں بحق ہو گئی، چنانچہ وہ اس معاملے کا حل جاننے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ اس وقت مقامِ تبوک میں تشریف فرما تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے مقتولہ عورت کے قصاص و دیت کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کے وارثوں کو اس کی دیت (خون بہا) ادا کرو۔“ حضرت عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کی ایک سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں جس کا کان تھوڑا کٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! خوب جان لو کہ ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں؛ اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت سب سے بلند ہے، دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے، اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے، لہٰذا تم لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچو اور پاک دامنی اختیار کرو، خواہ تمہیں جنگل سے لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے (محنت مزدوری کے ذریعے) ہی اپنا رزق کیوں نہ حاصل کرنا پڑے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک اٹھائے اور بارگاہِ الہی میں عرض کی: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا ہے؟“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 936
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7172، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2138، 3044»