المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنِ السُّؤَالِ باب: لوگوں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَحْزِمَ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَجْعَلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ وَيَأْتِيَ بِهَا السُّوقَ فَيَبِيعَهَا ، وَيَأْكُلَ ثَمَنَهَا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسْأَلَهُ ، أَعْطَاهُ ، أَوْ مَنَعَهُ ... الْحَدِيثَ .
هَكَذَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَتَابَعَهُ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَالْإِسْنَادُ صَحِيحٌ . وَلَكِنَّهُ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ .سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں اٹھائے، پھر پہاڑ کا رخ کرے اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا تیار کر کے اپنی پیٹھ پر لاد لائے، پھر اسے بازار لے جا کر فروخت کرے اور اس کی قیمت کو اپنی ضرورت میں لائے، تو یہ اس کے لیے اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ وہ کسی شخص کے پاس جا کر دستِ سوال دراز کرے، اب وہ اسے عطا کرے یا محروم رکھے۔“
اس حدیث کو اسی طرح اسحاق نے ابو معاویہ سے روایت کیا ہے، اور احمد بن ابی الحواری نے بھی ابو معاویہ سے اس کی متابعت کی ہے، اور اس کی سند صحیح ہے؛ تاہم وکیع اور کئی دیگر ائمہ نے اسے ہشام، بحوالہ ان کے والد، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور امام بخاری نے اسی طریق سے اسے اپنی صحیح میں نقل فرمایا ہے۔