المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِسْقَاطِ الزَّكَاةِ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ باب: گھوڑوں اور غلاموں سے زکوٰۃ ساقط ہونے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَزْرَةُ قَالَ : إِنَّ أَهْلَ الشَّامِ قَالُوا لِعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ أَفْضَلَ أَمْوَالِنَا الْخَيْلُ وَالرَّقِيقُ ، فَأَخَذَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِكُلِّ فَرَسٍ عَشَرَةً ، وَلِكُلِّ رَأْسٍ عَشَرَةً ، لَهُ رِزْقُهُمْ ، فَكَانَ يُعْطِيهِمْ أَكْثَرَ مِمَّا أَخَذَ مِنْهُمْ ، فَعَمَدَ هَؤُلَاءِ ، يَعْنِي عُمَّالَ بَنِي أُمَيَّةَ فَأَخَذُوا مِنَ الرَّأْسِ عَشَرَةً ، وَمِنَ الْفَرَسِ عَشَرَةً ، وَلَمْ يَرْزُقُوا .حضرت عزرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل شام نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ ہمارے بہترین اموال گھوڑے اور غلام ہیں، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر گھوڑے اور ہر غلام کے عوض دس دس درہم وصول کیے تاکہ انہیں بیت المال سے وظائف دیے جا سکیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ انہیں اس سے کہیں زیادہ (بطور وظیفہ) عطا فرماتے تھے جتنا ان سے وصول کرتے تھے، پھر ان لوگوں یعنی بنو امیہ کے عاملوں نے بھی ہر غلام اور ہر گھوڑے پر دس دس درہم وصول کرنا شروع کر دیے لیکن انہیں وظائف نہیں دیے۔
اس اثر سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام اہل شام کی اپنی رضا مندی اور ان کی معاشی معاونت کے لیے تھا، جبکہ بعد کے اموی عمال نے اسے ایک جبری ٹیکس کی صورت دے دی لیکن بدلے میں وہ سہولیات اور وظائف فراہم نہیں کیے جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا طرہ امتیاز تھیں۔