المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ جَامِعٌ فِي حُدُودِ الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ کی حدود و نصاب کا جامع بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ شَيْءٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْءٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالًا شَيْءٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَيْءٌ ، وَالْعُشْرُ فِي التَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَمَا سُقِيَ سَيْحًا فَفِيهِ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پانچ سے کم اونٹوں میں (زکوۃ کے طور پر) کچھ واجب نہیں، اور نہ ہی چالیس سے کم بکریوں میں کچھ ہے، اور نہ ہی تیس سے کم گائے میں کچھ لازم ہے، اور نہ بیس مثقال (سونے) سے کم میں کچھ واجب ہے، اور نہ دو سو درہم (چاندی) سے کم میں کچھ ہے، اور نہ ہی پانچ وسق سے کم (غلّہ و ثمر) میں کچھ واجب ہے۔ نیز کھجور، کشمش، گندم اور جو میں دسواں حصہ (عشر) ہے؛ اور جو زمین قدرتی طور پر بہتے ہوئے پانی یا بارش سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ (عشر) ہے، اور جسے بڑے ڈول کے ذریعے (مصنوعی مشقت سے) سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے“۔