المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِخْرَاجِ النَّوَائِحِ مِنَ الْبُيُوتِ وَالزَّجْرِ عَنِ النِّيَاحَةِ باب: نوحہ کرنے والی عورتوں کو گھروں سے نکالنے اور نوحہ کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : كُنَّ نِسَاءُ الْمُهَاجِرِينَ يَصْنَعْنَ مَا يُصْنَعُ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : لَا ، هَا هُنَا خَمْشُ وُجُوهٍ ، وَشَقُّ جُيُوبٍ ، وَنَتْفُ أَشْعَارٍ ، وَمَزَامِيرُ شَيْطَانٍ ، صَوْتَانِ قَبِيحَانِ فَاحِشَانِ : عِنْدَ هَذِهِ النِّعْمَةِ ، ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ : فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ، وَجَعَلْتُمْ فِي أَمْوَالِكُمْ حَقًّا مَعْلُومًا لِلْمُغَنِّيَةِ عِنْدَ هَذِهِ النِّعْمَةِ ، وَالنَّائِحَةِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ ، يَمُوتُ الْمَيِّتُ عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَعِنْدَهُ الْأَمَانَةُ ، وَيُوصِي الْوَصِيَّةَ ، فَتَأْتِي الشَّيْطَانُ أَهْلَهُ فَيَقُولُ : وَاللهِ لَا تُنْفِذُونَ لَهُ تَرِكَةً ، وَلَا تَرُدُّونَ لَهُ أَمَانَةً ، وَلَا تَقْضُونَ دَيْنَهُ ، وَلَا تُمْضُونَ وَصِيَّتَهُ ، حَتَّى تَبْدَؤُوا بِحَقِّي ، فَيَشْتَرُونَ ثِيَابًا جُدُدًا ، ثُمَّ تُشَقُّ عَمَلًا ، وَيَجِيئُونَ بِهَا بِيضًا ، ثُمَّ تُصْبَغُ ، ثُمَّ يُحَلَّقُ لَهَا سُرَادِقُ فِي دَارِهِ ، فَيَأْتُونَ بِأَمَةٍ مُسْتَأْجَرَةٍ تَبْكِي بِعَيْنٍ شَجْوَهَا ، وَتَبْتَغِي عَبْرَتَهَا بِدَرَاهِمِهِمْ ، وَمَنْ دَعَاهَا بَكَتْ لَهُ بِأَجْرٍ مُعَيَّنٍ ، تُغَنِّي أَحْيَاءَهُمْ فِي دُورِهِمْ ، وَتُؤْذِي أَمْوَاتَهُمْ فِي قُبُورِهِمْ ، تَمْنَعُهُمْ أَجْرَهُمْ بِمَا يُعْطُونَهَا مِنْ أَجْرِهَا ، وَمَا عَسَى أَنْ تَقُولَ النَّائِحَةُ ؟ تَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي آمُرُكُمْ بِمَا نَهَاكُمُ اللهُ عَنْهُ ، أَلَا إِنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَكُمْ بِالصَّبْرِ ، وَأَنَا أَنْهَاكُمْ أَنْ تَصْبِرُوا ، وَإِنَّ اللهَ - عَزَّ وَجَلَّ - نَهَاكُمْ عَنِ الْجَزَعِ ، وَأَنَا آمُرُكُمْ أَنْ تَجْزَعُوا ، فَيُقَالُ : اعْرِفُوا لَهَا حَقَّهَا ، فَيُبَرَّدُ لَهَا الشَّرَابُ ، وَتُكْسَى الثِّيَابَ ، وَتُحْمَلُ عَلَى الدَّوَابِّ ، فَإِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، مَا كُنْتُ أَحْسَبُنِي أَنْ أَكُونَ فِي أُمَّةٍ هَذَا فِيهِمْ .ابوبکر ہذلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا مہاجر عورتیں بھی وہی کچھ کرتی تھیں جو آج کی عورتیں کرتی ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔ آج تو چہرے نوچے جاتے ہیں، گریبان چاک کیے جاتے ہیں، بال اکھاڑے جاتے ہیں اور شیطانی ساز بجائے جاتے ہیں۔ خوشی اور مصیبت کے موقع پر دو نہایت قبیح اور بے ہودہ آوازیں بلند کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: «وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ» یعنی ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم کا مقرر حق ہے، مگر تم نے اپنے مالوں میں خوشی کے موقع پر گانے والی اور مصیبت کے وقت نوحہ کرنے والی کا مقرر حق بنا لیا ہے۔ میت اس حال میں فوت ہوتی ہے کہ اس پر قرض ہوتا ہے، اس کے پاس امانت ہوتی ہے اور وہ وصیت کر جاتا ہے؛ پھر شیطان اس کے گھر والوں کے پاس آ کر گویا کہتا ہے: اللہ کی قسم! تم نہ اس کا ترکہ تقسیم کرو گے، نہ اس کی امانت واپس کرو گے، نہ اس کا قرض ادا کرو گے اور نہ اس کی وصیت نافذ کرو گے، جب تک پہلے میرا حق ادا نہ کر دو۔ چنانچہ وہ نئے کپڑے خریدتے ہیں، پھر انہیں قصداً پھاڑتے ہیں، سفید کپڑے لا کر رنگتے ہیں، گھر میں اس نوحہ گر کے لیے شامیانہ لگاتے ہیں اور اجرت پر ایک باندی یا عورت بلاتے ہیں جو بناوٹی غم سے روتی اور ان کے درہموں کے عوض آنسو تلاش کرتی ہے۔ جو اسے بلاتا ہے وہ اس کے لیے مقرر اجرت پر روتی ہے؛ وہ ان کے زندوں کے گھروں میں گاتی اور ان کے مردوں کو قبروں میں اذیت پہنچاتی ہے، اور جو اجرت اسے دی جاتی ہے اس کے سبب انہیں اجر سے محروم کرتی ہے۔ نوحہ کرنے والی گویا لوگوں سے کہتی ہے: میں تمہیں اسی کام کا حکم دیتی ہوں جس سے اللہ نے تمہیں منع فرمایا ہے؛ اللہ نے تمہیں صبر کا حکم دیا ہے اور میں تمہیں صبر سے روکتی ہوں، اور اللہ عزوجل نے تمہیں بے صبری سے منع کیا ہے جبکہ میں تمہیں بے صبری کا حکم دیتی ہوں۔ پھر کہا جاتا ہے: اس کا حق پہچانو؛ چنانچہ اس کے لیے مشروب ٹھنڈا کیا جاتا ہے، اسے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور سواری پر بٹھایا جاتا ہے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون! مجھے گمان نہ تھا کہ میں ایسی امت میں رہوں گا جس میں یہ سب کچھ ہوگا۔“