المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِخْرَاجِ النَّوَائِحِ مِنَ الْبُيُوتِ وَالزَّجْرِ عَنِ النِّيَاحَةِ باب: نوحہ کرنے والی عورتوں کو گھروں سے نکالنے اور نوحہ کی ممانعت کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بُكِيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَبْكُوا ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِهِشَامِ بْنِ الْوَلِيدِ : قُمْ ، فَأَخْرِجِ النِّسَاءَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : أُحَرِّجُكَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : ادْخُلْ ، فَقَدْ أَذِنْتُ لَكَ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : أَمُخْرِجِي أَنْتَ يَا بُنَيَّ ؟ فَقَالَ : أَمَّا لَكِ فَقَدْ أَذِنْتُ لَكِ ، فَجَعَلَ يُخْرِجُهُنَّ امْرَأَةً امْرَأَةً ، وَهُوَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَضْرِبُهُنَّ بِالدِّرَّةِ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ فَرْوَةَ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُنَّ ، أَوْ قَالَ : فَرَّقَ بَيْنَ النَّوَائِحِ .
قُلْتُ : الْمَرْفُوعُ مِنْهُ مُخَرَّجٌ عِنْدَهُمْ . وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ خَاصَّةً دُونَ بَاقِي الْقِصَّةِ ، وَالْقِصَّةُ أَشَارَ إِلَيْهَا الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا .سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو عورتیں ان پر رونے لگیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ مگر وہ رونے سے باز نہ آئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام بن ولید سے فرمایا: ”اٹھو اور ان عورتوں کو باہر نکالو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکنا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اندر جاؤ، میں نے تمہیں اجازت دی۔“ وہ اندر گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بیٹے! کیا تم مجھے بھی نکالو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دی ہے۔“ پھر وہ دوسری عورتوں کو ایک ایک کر کے باہر نکالتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں اپنے دُرّے سے تنبیہ کرتے رہے، یہاں تک کہ ام فروہ بھی باہر آ گئیں اور نوحہ کرنے والی عورتیں منتشر کر دی گئیں۔
میں کہتا ہوں: اس روایت کا مرفوع حصہ کتبِ حدیث میں مروی ہے۔ امام احمد نے عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ صرف مرفوع حصہ روایت کیا ہے، جبکہ امام بخاری نے اس واقعے کی طرف تعلیقاً اشارہ کیا ہے۔