المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ باب: تدفین کے احکام و مسائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جُلَاسٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الشَّمَّاخِ وَكَانَ ابْنَ أَخِي سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِسَمُرَةَ قَدْ سَعَى ، فَسَمِعَ بُكَاءً ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْبُكَاءُ ؟ قَالُوا : عَلَى فُلَانٍ ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، فَدَعَا بِطَسْتٍ ، أَوْ بِعُسٍّ ، فَغُسِّلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ كُفِّنَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لِمَوْلًى لَهُ : يَا فُلَانُ ، اذْهَبْ إِلَى حُفْرَتِهِ ، فَإِذَا وَضَعْتَهُ فَقُلْ : بِاسْمِ اللهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَطْلِقْ عُقَدَ رَأْسِهِ وَعُقَدَ رِجْلَيْهِ ، وَقُلِ : اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ .عثمان بن شماخ، جو کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، سے روایت ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے کا انتقال ہو گیا جو دوڑنے بھاگنے (یعنی سمجھ بوجھ) کی عمر کو پہنچ چکے تھے، جب انہوں نے رونے کی آواز سنی تو دریافت فرمایا: ”یہ کیسا رونا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ ”فلاں (آپ کے صاحبزادے) کی وفات پر رونا ہے“، تو انہوں نے انہیں اس عمل سے منع فرما دیا۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک لگن یا بڑا پیالہ منگوایا، پس ان کے سامنے ہی (بچے کو) غسل دیا گیا اور ان کے سامنے ہی اسے کفن پہنایا گیا، پھر انہوں نے اپنے ایک غلام سے فرمایا: ”اے فلاں! اس کی قبر کی طرف جاؤ اور جب تم اسے (قبر میں) رکھو تو یہ کہو: «بِاسْمِ اللهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر۔“ اور اس کے سر اور پاؤں کی (کفن والی) گرہیں کھول دینا اور یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈال۔“
اس روایت کی سند میں موجود راوی عثمان بن شماخ کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کے ہاں کلام موجود ہے، تاہم میت کو قبر میں اتارنے کی دعا اور طریقہ کار دیگر مستند و صحیح احادیث کے شواہد سے تقویت یافتہ ہے۔