المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 812
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَأَخَذَ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ الْأَرْبَعِ غَفَرَ لَهُ أَرْبَعِينَ ذَنْبًا ، كُلُّهَا كَبِيرَةٌ .
ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی جنازے کی مشایعت کی اور میت کی چارپائی کے چاروں اطراف کو (کندھا دے کر) اٹھایا، تو اس کے بدلے میں اس کے چالیس گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور وہ سب کے سب کبیرہ یعنی بڑے گناہ ہوتے ہیں۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔