المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِذَا مُتُّ فَاغْسِلُونِي ، وَكَفِّنُونِي ، وَحَنِّطُونِي ، وَأَجْمِرُونِي ، وَلَا تَذُرُّوا عَلَى كَفَنِي حَنُوطًا ، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ .
800 \ 2 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : أَنَّهَا أَمَرَتْ أَنْ تُبَخَّرَ ثِيَابُهَا عَلَى مِجْمَرَةٍ ، وَلَا تُتْبَعَ بِمِجْمَرٍ ، وَأَوْصَتْ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ : لَا تَجْعَلُوا عَلَى نَعْشِي حَنُوطًا .سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی وفات سے قبل وصیت کرتے ہوئے) فرمایا: ”جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے غسل دینا، مجھے کفن پہنانا، مجھے حنوط (میت کی مخصوص خوشبو) لگانا اور میرے کفن کو (عود یا لوبان کی) دھونی دینا، لیکن میرے کفن پر (الگ سے مزید خشک) خوشبو مت چھڑکنا اور (جنازہ لے جاتے وقت) میرے پیچھے دھونی والی انگیٹھی لے کر نہ چلنا۔“
امام عبدالرزاق نے معمر کے واسطے سے ہشام بن عروہ سے یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ: انہوں نے حکم دیا کہ ان کے کپڑوں کو انگیٹھی کے ذریعے دھونی دی جائے لیکن جنازے کے پیچھے انگیٹھی نہ لے جائی جائے، نیز سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی کہ: ”میرے جنازے (یعنی چارپائی یا تابوت) پر خوشبو مت ڈالنا۔“