المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کے احکام و مسائل کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ فِيهِ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنْهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا مِائَةُ دَرَجَةٍ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَكَيْفَ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ فِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَسْتُرُ عَوْرَتَهُ ، وَيَكْتُمُ شَيْنَهُ ، فَإِنْ هُوَ لَمْ يَكْتُمْ شَيْنَهُ ، وَلَمْ يَسْتُرْ عَوْرَتَهُ أَبْدَى اللهُ تَعَالَى عَوْرَتَهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کے معاملے میں امانت داری کا حق ادا کیا، تو اسے میت کے جسم کے ہر بال کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کی بدولت اس کے سو درجات بلند کیے جائیں گے۔“ اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میت کے معاملے میں امانت داری کیسے ادا کی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ اس کے ستر (پردہ طلب حصوں) کو ڈھانپے اور اس کے عیوب و نقائص کی پردہ پوشی کرے، کیونکہ اگر اس نے اس کے عیوب کو فاش کیا اور اس کے ستر کو نہ چھپایا، تو اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے سامنے اس کے اپنے عیوب و مستورات کو ظاہر کر دے گا۔“
اس روایت کی سند میں داود بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے کذاب (جھوٹے) راوی موجود ہیں، اس لیے یہ روایت سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) کے درجے میں ہے۔