المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ثَوَابِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ باب: اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے کے اجر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا مَرِيضٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَشْفِيَ ابْنِي هَذَا ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ لَكِ فَرَطٌ ؟ قَالَتْ : بَلْ فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : جُنَّةٌ حَصِينَةٌ ، جُنَّةٌ حَصِينَةٌ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، فَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ وَإِنْ كَانَ فِيهِ مَقَالٌ لَكِنْ جَاءَ مِنْ وَجْهٍ صَحِيحٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ہمراہ ان کا ایک بیمار بیٹا تھا، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میرے اس بیٹے کو صحت و شفا عطا فرما دے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارا کوئی بچہ (بچپن میں) فوت ہو چکا ہے جو (آخرت میں تمہارے لیے) پیش رو ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، وہ اسلام کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تب تو وہ (تمہارے لیے دوزخ سے بچاؤ کی) ایک مضبوط ڈھال ہے، ایک مضبوط ڈھال ہے۔“
یہ سند حسن ہے، کیونکہ اگرچہ ابو عبیدہ کے متعلق کلام کیا گیا ہے لیکن یہی روایت ایک صحیح سند کے ساتھ ابو زرعہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔