المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ثَوَابِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ باب: اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے کے اجر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَطْبُخُ حَيْسًا ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاثْنَانِ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ثَلَاثَةٌ ، قُلْتُ : وَاثْنَانِ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ثَلَاثَةٌ ، ثُمَّ سَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اثْنَانِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ ، اثْنَانِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ .
789 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
789 \ 3 - وَحَدَّثَنَا ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ مُخْتَصَرًا .سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے جبکہ وہ حیس (کھجور اور گھی سے تیار کردہ ایک حلوہ) پکا رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے تین ایسے بچے فوت ہو جائیں جو ابھی سنِ بلوغت کو نہ پہنچے ہوں، تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ بن جائیں گے۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا دو بچوں کے انتقال پر بھی یہی اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین۔“ میں نے دوبارہ عرض کی: اور اگر دو ہوں؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”تین۔“ اس کے بعد آپ ﷺ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر ارشاد فرمایا: ”اے ام مبشر! دو بھی، اے ام مبشر! دو بھی (یعنی دو بچوں کی وفات پر بھی یہی فضیلت حاصل ہوگی)۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس روایت کو امام ابو بکر کے واسطے سے انہی الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے، نیز ابن عمار نے عبد الوہاب، مثنیٰ، عمرو بن شعیب اور سعید بن مسیب کے طریق سے سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے اس کے مانند مختصراً نقل کیا ہے۔