المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ باب: صبر اختیار کرنے کے حکم کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى امْرَأَةٍ بِالْبَقِيعِ جَاثِمَةٍ عَلَى قَبْرٍ تَبْكِي ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا أَمَةَ اللهِ ، اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللهِ ، إِنِّي أَنَا الْحَزْنَى الثَّكْلَى ، فَقَالَ : يَا أَمَةَ اللهِ ، اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللهِ ، قَدْ سَمِعْتُ ، فَانْصَرِفْ عَنِّي ، قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَوَقَفَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ لَهَا : مَا قَالَ لَكِ الرَّجُلُ الذَّاهِبُ ؟ قَالَتْ : قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَهَلْ عَرَفْتِيهِ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : فَذَاكَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبَتْ مُسْرِعَةً وَهِيَ تَقُولُ : أَنَا أَصْبِرُ ، أَنَا أَصْبِرُ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، فَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ - وَإِنْ كَانَ فِيهِ مَقَالٌ - فَإِنَّ لِلْأَصْلِ شَاهِدًا قَوِيًّا مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر گھٹنوں کے بل بیٹھی رو رہی تھی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اے اللہ کی بندی! اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور صبر سے کام لے۔“ اس نے جواب دیا: ”اے اللہ کے بندے! میں وہ غمزدہ ماں ہوں جس کا لختِ جگر چھن گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”اے اللہ کی بندی! اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے بندے! میں نے (آپ کی نصیحت) سن لی ہے، لہٰذا اب آپ میرے پاس سے تشریف لے جائیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وہاں سے آگے تشریف لے گئے، پھر آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے گیا اور اس عورت کے پاس آ کر رکا اور اس سے پوچھا: ”ابھی جو صاحب یہاں سے تشریف لے گئے ہیں، انہوں نے تم سے کیا کہا تھا؟“ اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھ سے اس اس طرح (صبر کی) بات کہی تھی۔ اس نے پوچھا: ”کیا تم نے انہیں پہچانا بھی تھا؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ اس شخص نے بتایا: ”وہ تو اللہ کے رسول ﷺ تھے۔“ (یہ سن کر) وہ عورت گھبرا کر تیزی سے اچھل کر کھڑی ہوئی اور (آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر) عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میں صبر کرتی ہوں، میں اب صبر کرتی ہوں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”صبر تو وہی معتبر ہے جو صدمے کی پہلی چوٹ کے وقت کیا جائے، صبر تو صدمے کے آغاز ہی میں (کرنا) ہوتا ہے۔“
یہ حدیث حسن ہے، کیونکہ ابوعبیدہ (ناجی) کے بارے میں اگرچہ بعض محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن اس حدیث کی اصل کے لیے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک مضبوط شاہد موجود ہے جسے امام بخاری اور دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔